17 مئی 2010 - 19:30

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ترکی اپنا سفیر واپس واشنگٹن بھیجنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

ترکی نے امریکی کانگریسی پینل کی جانب سے پہلی جنگ عظیم میں آرمینائی باشندوں کی ہلاکت کو قتل عام قرار دیئے جانے کے بعد احتجاجاً واشنگٹن سے اپنے سفیر واپس بلا لیا تھا ۔
ترکی کے وزیر اعظم نے امریکی کانگریس کے اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کہ اس تمام کارروائی کے پیچھے یہودی لابی کار فرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا میں آرمینائی باشندوں کی ہلاکت کے بارے میں خیالات میں تبدیلی نہیں لائی جاتی تب تک ترکی اپنا سفیر امریکہ واپس نہیں بھیجے گا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاملات میں نہیں الجھنا چاہیے۔ ایران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترکی کےوزیراعظم نے کہا کہ ایران پر مزید پابندی لگانے سے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر پہلے اور دوسرے مرحلے کی پابندیاں عائد کرنے سے کوئی فوائد حاصل نہیں ہوئے ہیں ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور ترکی ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔
.....

/110